نئی دہلی، 8/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے فی کس آمدنی میں اضافہ کے مودی حکومت کے دعووں کو محض ایک پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ فی کس آمدنی میں اضافہ کا دعویٰ بی جے پی کا ہیڈلائن مینجمنٹ ہے، حقیقی ڈاٹا اس سے کافی مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہیڈلائن مینجمنٹ کے بی جے پی کے جال میں نہ پھنسیں۔
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ آپ کی آمدنی بڑھانے کے لیے کانگریس کے ذریعہ دی گئی سیکورٹی کا ’چھاتہ‘ آپ کی آمدنی بڑھانے کے لیے بی جے پی کی تشہیر سے زیادہ مضبوط تھا۔ انھوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2004 میں جب یو پی اے برسراقتدار آیا تھا تب فی کس آمدنی 24143 روپے تھی جو 2014 میں بڑھ کر 86647 روپے ہو گئی تھی جو 258 فیصد کا اضافہ تھا۔
مذکورہ بالا اعداد و شمار کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ اعداد و شمار خود حقائق بیان کرتے ہیں۔ 2022 میں فی کس آمدنی 172000 روپے تھی، جو 2014 سے 98.5 فیصد زیادہ رہا۔ اس سے واضح ہے کہ یو پی اے حکومت کے دوران ملک میں فی کس آمدنی میں ریکارڈ اضافہ درج ہوا، کیونکہ اس کا فوکس مجموعی ترقی پر تھا۔
غور طلب ہے کہ نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس (این ایس او) نے اعداد و شمار جاری کر کہا ہے کہ پیور نیشنل انکم کے معاملے میں فی کس آمدنی موجودہ قیمتوں میں 23-2022 میں 172000 روپے تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ 86647 روپے سے تقریباً دوگنی ہے جو 15-2014 میں فی کس آمدنی تھی۔ اس سلسلے میں بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ 15-2014 کے بعد جب سے مرکز میں این ڈی اے حکومت آئی، تب سے ملک کی فی کس آمدنی دوگنی ہو کر 1.72 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔